سیاسی ومذہبی جماعتوں پرپابندیوں کی تاریخ

پاکستان میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں پر پابندی عائد کئے جانے کی ایک تاریخ ہے اب رواں دور میں سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر گزرتے وقت کےساتھ دستور ساز ایوانوں میں پابندی کیلئے آوازیں بلند ہورہی ہیں۔ الزام ہے کہ ملک میں حالیہ تشدد کی لہر کے پیچھے تحریک انصاف کا ہاتھ ہے ایسا ہوا تو یہ پہلا موقع ہوگا کہ کوئی برسراقتدار حکومت کسی جماعت یا تنظیم کو قومی مفاد کے نام پر غیر قانونی قرار دے گی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستان میں کسی سیاسی جماعت یا تنظیم پر پہلی پابندی جولائی 1954ء میں کمیونسٹ پارٹی پر لگائی گئی تھی۔ اس پر 1951ء میں وزیراعظم لیاقت علی خان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کا الزام لگا تھا۔ راولپنڈی سازش کیس میں بغاوت کا سرغنہ میجرجنرل اکبر خان کو بتایا گیا جس میں کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل سجاد ظہیر، ممتاز شاعر فیض احمد فیض اور دیگر درجنوں پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ پابندی کے بعد کمیونسٹ پارٹی کے ارکان پاکستان آزاد پارٹی اور نیشنل عوامی پارٹی میں ضم ہو کر کام کرنے لگے۔ 1960ء میں اس وقت کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل حسن ناصر شاہی قلعہ لاہور میں دوران تفتیش ہلاک ہوگئے تھے وہ کیمبرج سے گریجویٹ اور نواب محسن الملک کے نواسے تھے جنہوں نے 1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی تھی۔ نیپ پر 1971ءاور 1975ء میں دوبار پابندی لگی۔ یہ فوجی حکمراں یحییٰ خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے ادوار تھے۔ نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کو 1957ء میں ڈھاکہ میں مولانا عبدالحمید بھاشانی نے قائم کیاتھا جنہوں نے 1975ء کے متنازع صدارتی انتخاب میں ایوب خان کی حمایت کی تھی۔ مغربی پاکستان میں خان عبدالولی خان نے نیپ میں اپنا دھڑا قائم کرلیا۔ 26؍ مارچ 1971ء کو یحیی خان نے شیخ مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ کو کالعدم قراردیا۔ مئی 2020ء میں وزارت داخلہ نے جئے سندھ قومی محاذ (جسقم) آریسر گروپ کو غیر قانونی قرار دیا۔ سندھو دیش لبریشن آرمی پر بھی پابندی لگی۔

Read Previous

انتخابات سے فرار، پی ڈی ایم اور پاکستان کی عوام

Read Next

کیمرون میں باغیوں نے 30 خواتین کو اغوا کر لیا

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Most Popular