انتخابات سے فرار، پی ڈی ایم اور پاکستان کی عوام

جمشید احمد خان۔
پاکستان کو اس وقت انتہائی شرمناک صورتحال کا سامنا ہے، پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا اتحاد پی ڈی ایم تسلسل کے ساتھ انتخابات سے فرار کے راستے پر گامزن ہیں۔ یہ جماعتیں بظاہر تو خود جمہوری کہتی ہیں لیکن ان میں جمہوریت نام کوئی چیز بھی نہیں، یہ سیاسی جماعتیں کم اور فیملی لیمٹڈ کمپنیاں زیادہ لگتی ہیں، پی ڈی ایم کی اہم جماعتوں میں نواز شریف کی مسلم لیگ، آصف زرداری اور بلاول زرداری بھٹو کی پی پی پی، فصل الرحمان کی جے یو آئی شامل ہیں، ان تینوں جماعتوں میں ایک چیز جو قدر مشترک ہے وہ ان جماعتوں کے اندار پائی جانے والی موروثیت ہے، ان تینوں جماعتوں کی لیڈرشپ موروثیت کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں۔
پی ڈی ایم کی دیگر اتحادی جماعتوں میں لسانی اور صوبائیت کی بنیاد پر سیاست کرنے والی اے این پی بھی شامل ہے، اے این پی کی سیاسی اوقات اس وقت قومی اسمبلی میں ایک سیٹ کی ہے لیکن بحرحال اس وقت شہباز شریف اور پی ڈی ایم کی حکومت میں شراکت دار تو ہے، اے این پی بھی موروثیت کی زندہ و تابنہ مثال ہے۔ اس تحاد میں کچھ دیگر جماعتیں بھی موروثیت کے نشے میں دھت رہتی چلی آئی ہیں لیکن یہاں پر ہم ذکر مسلم لیگ ن، پی پی پی، جے یو آئی اور اے این پی کا کریں گے۔
مذکورہ بالا سطور کی تناظر میں نواز شریف کی مسلم لیگ کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ اس جماعت کے تو نام میں بھی موروثیت ہے، نواز شریف کے نام سے قائم مسلم لیگ کے برائے نام دوسرے بڑے لیڈر شہباز شریف ہے جو اس وقت پی ڈی ایم کے سیاسی جم گھٹے کا وزیر اعظم ہے، جبکہ نواز شریف کی بیٹی مریم اس وقت پارٹی کی چیف آرگنائزر کے عہدے پر قابض ہے، چیف آرگنائزر کے طور پرپارٹی امور اور تمام فیصلے مریم کی خواہشات کے مطابق ہو رہے ہیں، لیکن درحقیقت چیف آرگنائزر مریم نے اپنی جماعت کو جس قدر ڈس آرگنائز کر کے رکھ دیا ہے اتنا تو پرویز مشرف اپنے مارشل لاء میں بھی نہیں کر سکا تھا۔ مریم کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ ن پر موروثیت کا ایک سایہ حمزہ شہباز کی صورت میں بھی موجود ہے۔
اسی طرح پی پی پی بھی موروثیت کی جیتی جاگتی مثال ہے، ذوالفقارعلی بھٹو کی بنائی ہوئی پی پی پی، بے نظیر بھٹو سے ہوتے ہوئے آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری تک آپہنچی ہے۔ اسی مانند فصل الرحمان کی جے یو آئی مفتی محمود سے شروع ہوتے ہوئے، فضل اور فضل سے ہوتے ہوئےاسد محمودکی شکل میں موروثی ناچ، ناچ رہی ہے۔
اے این پی جو اس وقت اپنی تاریخ کی بدترین پوزیشن میں موحود ہے، عوامی سطح پر اس کی پذیرائی جتنی آج کم ہے وہ اس پہلے کبھی نہیں تھی، یہ جماعت بھی موروثیت کا سرچشمہ ہے، باچا خان کی خدائی خدمتگار جس کا جدید نام عوامی نیشنل پارٹی ہے، باچا خان سے شروع ہونے والی یہ جماعت، ولی خان، بیگم نسیم ولی، اور اسفندیارولی سے ہوتے ہوئےایمل ولی تک آچکی ہے، اس وقت عملی طور پر اس جماعت پراسفندیار ولی کے صاحبزادے ایم ولی موروثیت کا جھنڈا تھامے مسلط کیے جا چکے ہیں۔
جمہوریت کے نام پر موجود پی ڈیم ایم کی مذکورہ جماعتیں اس وقت جمہوریت کے سب سے اول اور سب سے اہم عمل الیکشن سے فراراختیار کرنے کی تگ و دو میں مصروفِ عمل ہیں، بند کمروں میں ملک کے فیصلے کرنے والی قوتوں نے شاید انہیں بتا دیا ہے کہ اگر انتخابات ہوئے تو عمران خان کی جماعت بہت بھاری اکثریت سے پی ڈیم ایم کی سیاسی گینگ اپ ہوئی جماعتوں کو شکست دے دیگی، یہی وجہ ہے کہ پی ڈیم ایم الیکشن سے بھاگنے میں عافیت سمجھ رہی ہے۔ بلاشبہ یہ جماعتیں اس وقت عوامی سطح انتہائی غیر مقبول ہوچکی ہیں، جس کا اندازہ ان کے الیکشن سے فرارکی خواہش سے بھی لگایا جا سکتا ہے، کیونکہ اگر کسی بھی جماعت کی مقبولیت عوام میں ہوگی تواَسے الیکشن میں جانے سے کسی قسم کا خوف نہیں رہتا ہے۔
بحرحال انتخابات تو کرانے ہوں گے، کیونکہ حقیقت یہی کہ جمہوریت میں فیصلے عوام کرتی ہے، اور کوئی بھی سیاسی جماعت عوام سے بڑی نہیں ہوسکتی، سیاسی گینگز یا اتحاد بنا کرعوام کو مذید دھوکہ نہیں دیا جاسکتا، عوام میں سیاسی اور جمہوری شعور پیدا ہو چکا ہے جس میں ممسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے، یہ جماعتیں جو آج غیر مقبول ہوئی ہیں اور مذید ہو رہی ہیں یہ اب غیر مقبول ہی رہیں گی، جبکہ تک یہ موروثیت کا دامن نہیں چھوڑیں گی، کیونکہ آج کی نسلیں جان چکی ہیں کہ ملک کے فیصلے انہیوں (عوام) نے کرنے ہیں نہ کہ بند کمروں میں چھپے بیٹھے سازشیوں نے، اور نہ ہی مفاد پرست وموروثی سیاسی جماعتیں گینگ اپ ہو کر فیصلے کریں گی۔

Read Previous

پی ٹی آئی کاپختونخواہ میں انتخابات کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کافیصلہ

Read Next

سیاسی ومذہبی جماعتوں پرپابندیوں کی تاریخ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Most Popular