جمشید احمد خان۔
پاکستان کی 76 سالہ تاریخ میں پہلی دفعہ ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ پاکستان کو ایک مثالی جمہوری ملک بننے سے روکے رکھنے والے طاقتور حلقے پاکستانی عوام کے اندر نہ صرف غیر مقبول ہو رہے ہے بلکہ ان کے خلاف نوجوانوں میں نفرت بڑھتی جا رہی ہے، گزشتہ برس عمران خان کی حکومت گرانے کے بعد سے عوام میں پاکستان کی اسٹبلشمنٹ کے خلاف بھی ناپسندیدگی تقویت حاصل کر رہی ہے۔ عوام کی اکثریت سمجھتی ہے کہ پاکستان کی سابقہ بڑی جماعتوں کی اتحاد پی ڈی ایم در اصل کرپٹ سیاسی ٹولہ ہے جس کو پاکستان کی اسٹلشمنٹ کی مکمل اشیرباد حاصل ہے۔
پاکستانی کی اسٹبلشمنٹ پر الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ اس نے پاکستان کی سیاسی قوتوں کو ہمیشہ دیوار سے لگانے کی کوششیں کیں، ان الزامات میں کافی حد تک صداقت اس لیے بھی ہے کہ پاکستان تواتر کے ساتھ مارشل لاء کی زد میں رہتا چلا آیا ہے، بلکہ مارشل لاء ہی وہ واحد حکومت رہی ہے کہ جس نے لمبے عرصے تک پاکستان اور پاکستانی عوامی پر مسلط شدہ حکمرانی کی، پاکستان میں 1947سے کے کر آج تک کوئی بھی منتخب حکومت اپنی مقررہ مدت پوری نہیں کرسکی لیکن اس کے برعکس فوجی آمر دہائیوں تک پاکستان کے نظام اقتدار پر قابض رہے ہیں۔
سب سے بڑی بدقسمتی یہ رہی کہ پاکستان کی سایسی قوتیں کبھی اسٹبلشمنٹ کے خلاف موثر طور پر کھڑی نہیں ہوسکیں، جس کی پہلی دلیل ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کے دور میں سامنے آئی تھی، ذوالفقارعلی بھٹو کے علاوہ پاکستان کی تمام سیاسی قوتیں اس وقت کے بدترین آمر ضیاءالحق کے ساتھی بن گئے تھے۔ بھٹو کے بعد جب اس کی بیٹی بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں تو اس وقت نوازشریف فوج کی نرسری سے نئے نئے فارغ ہوئے تھے جسے بے نظیر پر چھوڑ دیا گیا تھا، دونوں یعنی نواز اور بے نظیر کے درمیان سیاسی رسہ کشی جار رہی ، نواز چونکہ فوج کی ترجمانی کر رہے تھے اور فوج نے بے نظیر کی حکومت کو پہلے ہی روز سے تسلیم نہیں کیا تھا، لہِذا بے نظیر کی حکومت اپنی مدت پوری کیَ بغیر فارغ کردی گئی۔
اس کے بعد فوج کی نرسری کے سند یافتہ نواز شریف کی حکومت بنی، نواز شریف چونکہ فوج کی تربیت میں سیاستدان بنا تھا اس لیے اس کے اندر ایک ڈکٹیٹر پہلے ہی پل چکا تھا، لہِذا نواز شریف امیرالمومنین بننے کے خواب دیکھنے لگا، دوسری طرف فوج نے بے نظیر کو اپنے زیر اثر کر لیا تھا، لہِذا سیاسی محاذآرائی اس قدر کروائی گئی کہ نواز بھی اپنی مدد پوری نہیں کرسکے۔ نواز شریف اور بے نظیر نے 90 کی دہائی میں دو دو مرتبہ حکومتیں بنائیں لیکن دونوں میں سے کوئی بھی اپنی مدت پوری نا کرسکا۔
بحرحال اس دوران پرویز مشرف نے مارشل لاء نافذ کردیا تھا، بے نظیرجلاوطن تھی جبکہ نواز شریف فوجیوں کی قید میں چلے گئے، اس دوران نواز شریف نے مشرف سے ڈیل کرلی اور ملک سے باہر چلے گئے، کچھ عرصہ بعد بعد بی بی اور نواز کے درمیان میثاق جمہوریت ہو گیا، اور دونوں نے محاذ آرائی کے بجائے جموریت کی بقا کے لیے سیاست کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ بی بی جب الیکشن میں حصہ لینے پاکستان آئی تو الیکشن کمپین کے دوران اس قتل کردیا گیا، بی بی کے قتل باوجود پی پی پی الیکشن جیت گئی، نواز شریف کی جماعت اور پی پی نے میثاق جمہوریت کے سائے تلے مشترکہ حکومت بنائی، لیکن دونوں کا یہ اتحا جلد ہی ٹوٹ گیا۔ اس دوران پی پی کے وزریراعظم کو نا اہل کردیا گیا تھا، پانچ سال کےبعد انتخابات ہوئے تو نواز شریف بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگئے، نواز شریف کو ایک بدلے ہوئے سیاستدان کے طور پر پیش کیا جانے لگا تھا لیکن وزیراعظم بننے کے ساتھ ہی اس کے اندر کا ڈکٹیٹر جاگ گیا تھا، بھر حال وہ ایک الگ بحث ہے لیکن کہنا یہ مقصود ہے کہ نواز شریف اب کے بار بھی 5 سالہ مدت پوری نہیں کر سکے ۔ نواز شریف کو نکالنے کے بعد وہ چیختے اور چلاتے رہے کہ مجھے کیوں نکالا، نکالنے کا سارا ملبہ اس نے فوج پر ڈال دیا تھا اور ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بلند کردیا تھا جس کو عوامی سح پر کافی پذیرائی بھی ملنے لگی تھی، اس دوران نواز شریف کو عدالت سے قید کی سزا ہوگئی اور صاحب جیل کے اندر ڈال دیے گئے۔
دوسری طرف انتخابات ہوگئے اور عمران خان کی جماعت ملک کی سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی اور اتحادی حکومت بنالی۔
جیل میں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد فوج کے ساتھ ڈیل کرتے ہوئے بیماری کا بہانہ بناتے ہوئے ملک چھوڑ کر لندن چلے گئے جہاں سے تاحال واپس نہیں گئے۔ لندن جانے سے پہلے عمران خان کی حکومت پر منصوبہ بندی کے ساتھ دبائو ڈالا جاتا رہا یہاں تک کہ حکومت کو نواز شریف کو علاج کے لیے لندن جانے دینا پڑا۔ اس دوران فوج کے عمران خان کے ساتھ معاملات خراب ہونے لگے، موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نواز شریف سمیت ملک کی دوسری سیاسی جماعتیں عمران خان کے خلاف صف آراء ہوگئیں، اور یوں عمران خان کی حکومت کو گھر بھیج دیا گیا اور پی ڈی ایک کی شکل میں پاکستان کی ایک درجن سیاسی پارٹیوں کی اتحاد نے ملک میں حکومت بنائی، دوسری جانب عمران خان کی حکومت جانے کے بعد پاکستان کی عوام عمران خان کے ساتھ کھڑی ہونا شروع ہوگئی، ہر گزرتے لمحے کے ساتھ عمران خان کی سیاسی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔
عمران خان نے بیرونی اور اندرونی قوتوں کو رجیم چینج کا ذمہ دار ٹھرایا، پاکستان کی عوام کی غالب اکثریت نے عمران خان کے اس بیانیے کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ عمران خان کے ساتھ کھڑے بھی ہوئے۔
بلاشبہ عمران خان اور نواز شریف کی جماعتِن ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتِیں تھیں، عمران خان اور فوج کے درمیان تعلقات کافی حد تک خراب ہوچکے جبکہ نواز شریف پہلے فوج کے خلاف محاذ کھولے بیٹھے ہوئے تھے، لیکن نواز شریف کے فوج مخالف بیانیہ اس وقت جھوٹ ثابت ہوا جب عمران خان کی حکومت گرانے کے لیے اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مل گئے، اور مل بھی ایسے گئے کہ اپنی تمام تر شرائط بھی منوا گئے۔ اگر نواز شریف اس وقت اسٹبلشمنٹ کے سامنے کھڑے ہوجاتے اور کہتے کہ اسٹبلشمنٹ پاکستان کی سیاست سے دور رہے، سیاسی جماعتیں جانے اور ان کا کام جانے، ایسا کرنے سے نواز شریف ایک بہت بڑے لیڈر کے طور پر سامنے آتے لیکن نواز شریف جو کہ ایک ڈرپوک سیاستان ہے کو فوج کے ساتھ ملنے میں ہی غنیمت نظر آئی۔
لیکن دوسری جانب اب عمران خان اور اس کے سپورٹر جن کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی اور ان مییں پاکستان کی اسٹبلشمنٹ کے خلاف مذاہمت بھی اس قدر مضبوط ہوتی جا رہی کہ جس کی کوئی مثال اس سے پہلے پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔
لگتا ہے کہ پاکستان کی اسٹبلشمنٹ اب بھی 90کی دہائی میں رہ رہی ہے، لیکن حقیقت یہ کہ پاکستان کی عوام 90کی دہائی سے باہر نکل آچکی ہے، اور اب وہ پاکستان کی سیاست میں اپنےفیصلے منوانا چاہتی جو کہ ان کا حق ہے، سوشل میڈیا نے عوام کو آواز بلند کرنے کا ایک ایسا ذریعہ بنا دیا ہے کہ پاکستان کی اسٹبلشمنٹ اب اس عوام کے سامنے ڈھیر ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ اور یوں لگ رہا ہے کہ اب پاکستان کے فیصلے بند کمروں میں نہیں ہوں گے، اور اگر ہوں گے تو وہ فیصلے اب عوام قبول نہیں کرے گی۔
