ایران پر امریکی حملوں سے چین کو کیسے فائدہ ہو سکتا ہے؟

جہاں امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی مداخلت کو وسیع کرتا جا رہا ہے، وہیں چین کی اس کے اقتصادی نتائج اور نئے سفارتی فائدے پر گہری نظر ہو گی۔
اگر امریکہ ہند-بحرالکاہل پر کم توجہ کے ساتھ ہی وسائل بھی کم صرف کرتا ہے، تو اس سے چین ممکنہ طور پر ایشیا میں چین کی بڑھتی ہوئی اپنی فوجی موجودگی پر بین الاقوامی دباؤ کو کم کر سکتا ہے۔
امریکہ کی جانب سے ایران کے جوہری مقامات پر بمباری کے بعد اسرائیل اور ایران جنگ میں تیزی سے اضافہ ہوا اور چین نے اس اقدام کو واشنگٹن کی عالمی ساکھ کے لیے ایک دھچکا قرار دیا۔
ٹرمپ نے جنگ بندی سے پہلے ایران کے جوہری پروگرام کے اہم مقامات پر امریکی حملے کیے، جس کے جواب میں، تہران نے قطر میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔ تاہم چین نے اس پیش رفت پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
بیجنگ کی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے ایران پر امریکی حملے کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے اساسی معاہدے کے تحت اپنے دفاع کے لیے یا پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر ممالک کے درمیان طاقت کے استعمال پر پابندی ہے۔
گو جیاکون نے کہا کہ بیجنگ "مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کی بحالی کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔”
اس سے قبل اقوام متحدہ میں چین کے سفیر فو کانگ کی جانب سے بھی اسی طرح کا بیان جاری کیا گیا تھا، جن کا کہنا تھا کہ بحیثیت ایک ملک اور کسی بھی بین الاقوامی مذاکرات میں شریک ہونے کی حیثیت سے امریکہ کی ساکھ کو "نقصان” پہنچا ہے۔
چین کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں استحکام کا مطالبہ ان اقتصادی خدشات کے درمیان آیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے، جس سے تیل کی قیمتیں غیر مستحکم ہو جائیں گی۔
آبنائے ہرمز عمان اور ایران کے درمیان ایک تنگ آبی گزرگاہ ہے، جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور تیل کی نقل و حمل کے لیے ایک اہم گیٹ وے ہے۔
واشنگٹن نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ تہران کو اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کرنے سے باز رکھے۔
سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی کے ماہر سیاسیات جا ایان چونگ کا کہنا ہے کہ "تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ یقیناً (چین کی) معیشت پر دباؤ ڈالیں گے۔ اس سے "افراط زر کے مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "بیجنگ کے پاس یقیناً اس بات کو یقینی بنانے کی وجہ ہے کہ کشیدگی قابو سے باہر نہ ہو۔ لیکن آیا وہ ایران کو مکمل طور پر روک سکتا ہے یا نہیں یہ ایک الگ کہانی ہے۔”
چین ایران کا کلیدی اقتصادی حمایتی ہے، خاص طور پر مغربی پابندیوں اور تہران کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنہائی کے درمیان، جو اس کے جوہری پروگرام اور انسانی حقوق کے ریکارڈ کی وجہ سے ہیں۔
ایران چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں ایک اہم شراکت دار ہے۔ یہ ایک بڑا انفراسٹرکچر منصوبہ ہے، جس کا مقصد چینی تجارت اور درجنوں ممالک میں اثر و رسوخ کو مربوط کرنا ہے۔
اٹلانٹک کونسل کے گلوبل چائنا ہب کے ایک رکن وین ٹی سنگ کا کہنا ہے کہ "ایک کمزور ایران، جو کہ شاید فوجی طور پر روایتی جنگ یا امریکی فوجی مداخلت کے نتیجے میں خانہ جنگی سے قریب تر ہے، تہران کو مشرق وسطیٰ میں چین کی رسائی کے لیے بہت ہی کم موثر پارٹنر بنا دے گا۔”
سنگ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی فوجی حملے کے تناظر میں چین کو مزید سفارتی خیر سگالی حاصل کرنے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا، "جب تک امریکہ کی جانب سے مستقبل میں مزید فوجی حملوں کا امکان ختم نہیں ہوتا، یہ سفارتی اثر برقرار رہے گا۔””
چین نے طویل عرصے سے امریکہ کو عدم استحکام پیدا کرنے والی قوت کے طور پر، جبکہ خود کو امن اور استحکام کے لیے ایک ذمہ دار وکیل کے طور پر پیش کیا ہے۔
چونگ کا کہنا ہے کہ (چین) کے پاس، "اب امریکہ کے بارے میں یہ بات کرنے کی زیادہ صلاحیت ہو گی کہ وہ ایک ممکنہ خطرہ ہے، وہ اس بیانیے کو گلوبل ساؤتھ میں آگے بڑھانے میں خاص طور پر سرگرم بھی رہا ہے۔”
سن 2023 میں، چین نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان سات سال کے منقطع تعلقات کے بعد سفارتی تعلقات بحال کرنے کے لیے ایک تاریخی معاہدے کی ثالثی کی تھی۔
اصفہان میں ایرانی جوہری تنصیب اصفہان میں ایرانی جوہری تنصیب
امریکہ نے ایران کے جوہری تنصیبات کو اپنے طاقتور بموں سے نشانہ بنایا، تاہم بعض اطلاعات کے مطابق وہ اس سے اس کے جوہوری پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کرنے میں ناکام رہاتصویر:
لیکن موجودہ بحران کے دوران بیجنگ کی تہران کی پشت پناہی زیادہ تر بیان بازی پر مبنی رہی ہے، جس میں اس کے ثالثی کا کردار اداکرنے کے کوئی اشارے نہیں ملے۔
چونگ نے کہا، "بیجنگ بااثر ہے، لیکن جس طرح امریکہ اسرائیل کو کنٹرول نہیں کر سکتا، اسی طرح بیجنگ (ایران کو روک نہیں سکتا)”۔

ادھر امریکہ ہند-بحرالکاہل پر کم توجہ کے ساتھ ہی وسائل بھی کم صرف کر رہا ہے، چین ممکنہ طور پر ایشیا میں چین کی بڑھتی ہوئی اپنی فوجی موجودگی پر بین الاقوامی دباؤ کو دور کر سکتا ہے۔
ہنوئی میں امریکی سفارت خانے نے کہا کہ اس ماہ کے اوائل میں ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز جو اصل میں ویتنام کی ایک بندرگاہ پر پہنچنے والا تھا، اسے ایک "ہنگامی آپریشنل ضرورت” کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ کیا گیا۔
چونگ نے کہا کہ طیارہ بردار جہاز کے اس دورے سے ایشیا میں سلامتی اور استحکام کے لیے امریکی عزم کو ظاہر کرنا تھا۔
چونگ نے تائیوان کی طرف چین کے نقطہ نظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "اگر مشرق وسطیٰ کی طرف امریکی توجہ طویل عرصے تک برقرار رہی تو، بیجنگ (اپنی حکمت عملی) کا دوبارہ تخمینہ لگا سکتا ہے۔”
تائیوان ایک خود مختار جزیرہ ہے، جسے چین اپنا علاقہ مانتا ہے اور بیجنگ نے اس کے "دوبارہ اتحاد” کے حصول کے لیے طاقت کے استعمال کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے۔
چونگ نے کہا کہ امریکہ اب مشرق وسطیٰ میں گہرائی سے الجھا ہوا ہے، اس لیے جاپان سمیت جنوبی کوریا، فلپائن اور آسٹریلیا جیسے اس کے علاقائی اتحادیوں کو "خود ہی بہت کچھ کرنا پڑے گا اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سخت محنت کرنا پڑے گی۔”
اس مرحلے پر یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ایران پر امریکی حملہ ایک الگ تھلگ واقعہ ہے اور اس کے بعد واشنگٹن ایشیا پر توجہ مرکوز کر سکتا ہے، یا پھر یہ قدم مشرق وسطیٰ کو ترجیح دینے کی جانب ایک وسیع محور کا اشارہ ہے۔
ص ز/ ج ا (یوچین لی تائی پے سے)

بشکریہ ڈی ڈبلیو۔

Read Previous

امریکی حملے ایرانی جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کرنے میں ناکام رہے

Read Next

بھارت میں بحریہ کا اہلکار پاکستان کے لیےجاسوسی کے الزام میں گرفتار

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Most Popular