صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز ودآوٹ بارڈر (آر ایس ایف) کے نمائندے ڈینیل بیسٹرڈ نے کہا،”جب پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس نے عدالت میں سماعت کے دوران اغوا میں نامعلوم ایجنسیوں کا ذکر کیا تو اس کا صاف مطلب ہے کہ عمران ریاض کا اغوا واضح طور پر ملٹری انٹیلی جنس نے کیا ہے۔‘‘
صحافیوں کی اس تنظیم نے مزید کہا کہ آر ایس ایف سے بات کرنے والے خفیہ سفارتی ذرائع کے مطابق ٹی وی اینکر کی زندگی کے بارے میں حکومت کی خاموشی سے پتہ چلتا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ اغوا کے بعد ان کا بہت برا حال کیا گیا ہو یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حراست میں ہی ان کی موت ہوگئی ہو۔
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی عمران ریاض کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ یہ واقعات بین الاقوامی قانون کے تحت "جبری گمشدگی” کے مترادف ہیں۔ ایمنسٹی نے کہا کہ مخالف آوازوں کو سزا دینے کے لیے جبری گمشدگی کا استعمال کرنا پاکستان میں پچھلے کئی برسوں سے ایک تشویش ناک رجحان بن گیا ہے، لیکن اسے ختم ہونا چاہیے۔
